شیخ علی جمعہ
شیخ علی جمعہ عرب جمہوریہ مصر کے مفتی اعظم ہیں جو ملک میں شیخ الازہر کے عہدہ کے بعد دوسرا سب سے بڑا منصب ہے اور پوری مسلم دنیا میں سب سے زیادہ واجب الاحترام مذہبی اداروں میں سے ایک ہے بطور مفتی اعظم وہ مذہبی قانون کی رہنمائی کے سب سے اعلیٰ ادارے دارالافتاءکے نگران ہیں۔ 2003ءمیں مفتی اعظم کے عہدے پر اپنی تقرری کے بعد سے وہ اعتدال پسندی کے نمایاں وکیل اور انتہاپسند نظریات کے جانے پہچانے ناقد ہیں جن کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ یہ نظریات اسلام سے متضاد ہے۔
1952ءمیں مصر میں بنی سویف میں پیدا ہوئے اور اعلیٰ تعلیم کے لیے دنیا کے اعلیٰ ترین اسلامی ادارے الازہر یونیورسٹی کے اسلامی اور عربی تعلیمات کے کالج میں تبادلہ کروانے سے پہلے انہوں نے الاشمس یونیورسٹی کے شعبہ تجارت سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ الازہر سے ہی انہوں نے ماسٹر کی ڈگری اور اسلامی اصول الافقہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
بطور مفتی اعظم تقرری سے پہلے شیخ علی نے الازہر میں علم قانون کے پروفیسر کے طور پر اور پھر اسی ادارے میں 1995ءسے 1997ءتک فتویٰ کونسل کے رکن کے طو رپر کام کیا۔ داراافتاءکے سربراہ کے فرائض کے علاوہ وہ الازہر یونیورسٹی میں کونسل برائے اسلامی تحقیق کے رکن، اسلامی کانفرنس تنظیم کی فقہ کونسل کے رکن اور بھارت میں اسلامی فقہ مرکز کے رکن ہیں۔
برسہا برس سے شیخ پورے عالم اسلام میں اسلام کو تقویت پہنچانے والی کارروائیوں اور غیرمسلم دنیا میں اسلام کا متوازن نظریہ پہنچانے میں مصروف ہیں۔ وہ عربی زبانوں کی کونسل کے لیے ماہر مشیر کے طور پر کام کرتے ہیں اور انہوں نے تنظیم کی جانب سے فقہی اصلاحات کے انسائیکلوپیڈیا کی تیاری میں شرکت کی ہے۔ انہوں نے واشنگٹن ڈی سی میں اسلامی اور سماجی سائینسوں کے سکول اور سلطنت اومان میں اسلامی قانون کے کالج کے مقررہ نصاب کی تیاری میں بھی حصہ لیا ہے۔ وہ مصر میں ہارورڈ یونیورسٹی کے شعبہ مطالعہ مشرق قریب (New Easter Studes) کے شریک کار مشیر بھی رہے ہیں۔
عالم اسلام کی عظیم ترین فن تعمیر یادگاروں میں ایک سلطان حسن مسجد میں ان کے خطاب 1998ءمیں اپنے آغاز کے بعد اب مصر کے مقبول ترین خطبات میں شامل ہوگئے ہیں۔
کثرت نگار مصنف اور اسلامی مسائل پر لکھنے والے شیخ علی اخبار الاہرام میں باقاعدہ کالم لکھتے ہیں اور انہوں نے کئی بااثر مقالے اور اسلام کے مختلف پہلوﺅں پر 25مشہور کتابیں شائع کی ہیں