شیخ عبداللہ بن بیہ
شیخ عبداللہ بن بیہ دور حاضر اسلام كے عظیم ترین علماء میں سے ہیں۔ ایك نہایت جانے پہچھانے اور قابل احترام عالم ہیں اور ان كو علماء كے عالم طور پر جانا جاتا ہے جیسے كہ ان كے شاگرد اب خود علماء ہیں. شیخ عبداللہ آفرایقہ كے ملك موريتانيا كے ایك مشرقی صوبہ میں پلے بڑھے۔ بچپن سے ہی انہوں نے معلومات اور نصاب كو جزب كرنے كے لیے ذہنی قابلیت اور گہری صلاحیت دكھائی۔ اِنہوں نے اپنی تعلیم كے دوران، بے شما كتابوں كا حفظ كیا۔ پھر، نو عمر میں آپ كو تونس ایك گروپ كے ساتھ قانونی فیصلہ كرنے كی تعلیم كے لیے مقرر كیا گیا۔ موريتانيا واپسی پر آپ كو وزیرِ تعلیم بنیا گیا اور اس كے بعد آپ وزیرِقانون منتخب ہوئے۔ آپ نے موريتانيا كے پہلے صدر كے نائب كی حثیت سے بھی خدمات سرانجام دی۔ لیكن، موريتانيا كے حلات میں تبدیلیوں اور فوج كی حكومت آنے سے، اِنہوں نے تعلیم دینا شروع كر دی، اور سعودی عرب میں یونیورسٹی اصول الفقہ میں ایك نامور پروفیسر بنے۔
الشیخ اس وقت مسلمان دنیا میں مختلف اداروں میں مصروف ہیں، جن میں بالمَجمع الفقهي جو كہ مسلمان دنیا سے مختلف مذاہیب اور مختلف نظریہ ركھنے والے علماء كا مجموعا ہے۔ یہ علماء جدید دور میں مسلمانوں كو درپیش مسائل اور اِن كا حل نكالنے كے لیے جدید دور كے مسائل كا جائزہ لیتے اور اِن كا مطالعہ كرتے ہیں۔ شیخ عبداللہ بہت سی كتابوں كی تحریر بھی كر چكے ہیں اور دنیا بھر میں لیكچر بھی دیتے ہیں۔ وہ بہت سے ایسے مضمونوں كے مائر ہیں جو اب بدقسمتی سے موجودہ دور كے علماء نے مدنظر كر دیئے ہیں۔ ان میں سے ایك مضمون جس كے شیخ عبداللہ مائر ہیں وہ فقہ الاقلیات ہے۔ یہ فقہ یا احكام فقھیہ كا تعلق ایسے مسلمانوں سے ہے جو اقلیت كے طور پر دوسرے ممالك میں رہا رہے ہیں۔ كیونكہ مسلمانوں نے زیادہ تر ایسے ممالك میں حجرت كی جہاں مسلمان اكژریت میں تھے، اس لیے ایسے علماء كی كمی ہے جو اقلیت میں رہنے والے مسلمانوں كی زندگیوں كے بارے میں جانتے ہوں اور مسلمانوں كو بتا سكے كہ اُن كو كیسا رویہ اختیار كرنا چاہیے جب وہ ایسے مسائل كا سامنا كریں جو اكثر دین كی تردید كرتے ہیں۔