شیخہ حلیمہ کروسن
شیخہ حلیمہ کروسن آچیان جرمنی میں ایک کیتھولک پروٹسٹنٹ گھرانے میں پیدا ہوئی۔وہ عنفوان شباب میں مسلمان ہوئی۔ عربی سیکھتے اور مسلم دنیامیں سفر کرتے ہوئے آخرکار اس نے اپنی تعلیم 1992ءمیںہمبرگ میں، اسلام تعلیم، انسانی برتاﺅ اور مذاہب کے تقابلی جائزے میں مکمل کی اور اپنی تعلیم کو مسلم دنیا سے گاہے بگاہے آنے والے عالموں کے ساتھ جاری رکھا۔ ان عالموں میں سب سے قابل ذکر ہیمبرگ مسلم کمیونٹی کے امام رضوی تھے۔ شیخ حلیمہ ہیمبرگ اور اس سے باہر جرمن بولنے والی مسلم کمیونٹی کو پروان چڑھانے میں سرگرم رہی ہیں۔1984ءتا 1988ءتک وہ اس ٹیم کا حصہ بنی رہی جس نے قرآن کا جرمنی زبان میں ترجمہ بمعہ حواشی کیا اور بعد میں حدیث اور اسلامی قانون کے کچھ جلدوں کے ترجمے کرنے کے کام کابھی حصہ بنی رہی۔ 1985ءمیں شیخہ ہیمبرگ یونیورسٹی کے شعبہ دینیات حلیمہ حلقہ بین المذاہبی مکالمہ میں بانی رکن بنیں۔ کچھ عرصہ بعد انہوں نے رین ہارڈ ون کرچ بیک کے حلقہ کی رکنیت بھی اختیار کی جس میں بدھ، ہندو، عیسائی اور مسلم ماہرین بھی شامل تھے جو کہ اس مکالمے کو ذہین لوگوں کے حلقے سے باہر مختلف ثقافتی اداروں (پاکستان، انڈیا، سری لنکا) تک پھیلانے کے خواہش مند تھے۔ 1993ءمیں انہوں نے ایک تعلیمی ادارے کی مدد کی جو کہ اسلامی تعلیم، کے لیے شروع کیا جانا تھا اور امام رضوی کو جرمن بولنے والی کمیونٹی کا صدر بنوانے میں کامیاب ہوئیں وہ لندن اور یورپ کے باہر باقاعدگی سے پڑھاتی ہیں اور خاص طور پرپورے یورپ میں بین المذاہب مکالمہ میں دلچسپی رکھتی ہیں۔